کالونیل سوال پر لینن کا موقف ​

Picture of شیر جان تکل

شیر جان تکل

عوام کی اصطلاح اور اس کی حدود

قوم سازی خاص طور پر کالونیل سوال پر کلاسیکل مارکسزم (مارکس و انگلز) کے زیادہ تر نظریاتی و سیاسی نتائج یورو سنٹرزم پر مبنی تھے۔ آج ہم کوشش کریں گے کہ قومی سوال اور کالونیل سوال پر لنین کی نظریاتی اور سیاسی موقف کا جائزہ لیں۔

مارکسزم کی تاریخ میں لینن شاید پہلا انقلابی مفکر تھا جس نے قومی سوال اور کالونیل سوال کی ٹھوس نظریاتی ، سٹرٹیجک اور عالمگیر وضاحت کی. 1914 کے بعد ان کی زیادہ تر تحریریں سامراج اور قومی سوال کے مختلف جہتوں کی توضیح پر مشتمل ہے. 1914 سے 1917 تک انہوں نے 120 صفحوں پر مشتمل معروف پمفلٹ "سامراج” لکھا لیکن اس کے ساتھ آٹھ سو صفحوں پر مشتمل (Notebook on imperialism) بھی لکھا. اسی طرح قومی سوال اور پہلی جنگ عظیم پر سینکڑوں صفحات سیاہ کئے. قومی سوال پر لینن کی زیادہ تر تحریریں ان کی موت کے بعد شائع ہوگئی. قومی سوال پر ان کی زیادہ اہم تحریریں بھی اگر ہم دیکھیں تو بھی بہت بڑا حصہ بنتا ہے. اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ سوال اس کے لئے کتنا اہم تھا. قومی سوال پر اہم تحریروں میں:

  • The Socialist and the Right of Nations to Self-Determination
  • The Junius Pamphlet
  • The Discussion of Self-Determination Summed Up
  • A Caricature of Marxism and Imperialist Economism
  • Imperialism and the Split in Socialism

سامراج پر تفصیلی نوٹ بک سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لینن کی سامراج کے متعلق تشریح صرف معاشی حقائق تک محدود نہیں تھی. انہوں نے کاوتسکی ,بخارین اور ھیلفرڈنگ پر تنقید کرتے ہوئے سامراج پران کی تشریح کو غیر جدلیاتی اور نیو کانٹین کہا. لینن نے سامراج کے سوال پر جدلیاتی طریقہ کار کا اطلاق کرتے ہوئے یہ نتیجه اخذ کیا کہ سامراجی اور اجارہ دار سرمایہ داری کے نتیجے میں قومی آزادی کی تحریکیں جدلیاتی ضد کے طور پر جنم لیں گی. انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سامراجی دنیا سامراجی لوٹ مار سے محنت کشوں کے ایک حصے کو مراعات دے کر مزدور اشرافیہ جنم دے گا تو دوسری طرف سامراجی دنیا کے محنت کشوں کی نچلی پرتوں اور استعمار زدہ دنیا میں سامراج مخالف قومی آزادی کی تحریکیں جنم لے گی۔