کالونیل سوال پر لینن کا موقف

تحریر: رزاق غورزنگ

18 جون 2026

قوم سازی خاص طور پر کالونیل سوال پر کلاسیکل مارکسزم (مارکس و انگلز) کے زیادہ تر نظریاتی و سیاسی نتائج یورو سنٹرزم پر مبنی تھے۔ آج ہم کوشش کریں گے کہ قومی سوال اور کالونیل سوال پر لنین کی نظریاتی اور سیاسی موقف کا جائزہ لیں۔

Lenin and the National Question

مارکسزم کی تاریخ میں لینن شاید پہلا انقلابی مفکر تھا جس نے قومی سوال اور کالونیل سوال کی ٹھوس نظریاتی ، سٹرٹیجک اور عالمگیر وضاحت کی. 1914 کے بعد ان کی زیادہ تر تحریریں سامراج اور قومی سوال کے مختلف جہتوں کی توضیح پر مشتمل ہے. 1914 سے 1917 تک انہوں نے 120 صفحوں پر مشتمل معروف پمفلٹ "سامراج” لکھا لیکن اس کے ساتھ آٹھ سو صفحوں پر مشتمل (Notebook on imperialism) بھی لکھا. اسی طرح قومی سوال اور پہلی جنگ عظیم پر سینکڑوں صفحات سیاہ کئے. قومی سوال پر لینن کی زیادہ تر تحریریں ان کی موت کے بعد شائع ہوگئی. قومی سوال پر ان کی زیادہ اہم تحریریں بھی اگر ہم دیکھیں تو بھی بہت بڑا حصہ بنتا ہے. اس سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ سوال اس کے لئے کتنا اہم تھا. قومی سوال پر اہم تحریروں میں:

  • The Socialist and the Right of Nations to Self-Determination
  • The Junius Pamphlet
  • The Discussion of Self-Determination Summed Up
  • A Caricature of Marxism and Imperialist Economism
  • Imperialism and the Split in Socialism

سامراج پر تفصیلی نوٹ بک سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لینن کی سامراج کے متعلق تشریح صرف معاشی حقائق تک محدود نہیں تھی. انہوں نے کاوتسکی ,بخارین اور ھیلفرڈنگ پر تنقید کرتے ہوئے سامراج پران کی تشریح کو غیر جدلیاتی اور نیو کانٹین کہا. لینن نے سامراج کے سوال پر جدلیاتی طریقہ کار کا اطلاق کرتے ہوئے یہ نتیجه اخذ کیا کہ سامراجی اور اجارہ دار سرمایہ داری کے نتیجے میں قومی آزادی کی تحریکیں جدلیاتی ضد کے طور پر جنم لیں گی. انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سامراجی دنیا سامراجی لوٹ مار سے محنت کشوں کے ایک حصے کو مراعات دے کر مزدور اشرافیہ جنم دے گا تو دوسری طرف سامراجی دنیا کے محنت کشوں کی نچلی پرتوں اور استعمار زدہ دنیا میں سامراج مخالف قومی آزادی کی تحریکیں جنم لے گی۔

یورپی مارکسزم میں سامراج پر بحث میں کاوتسکی ،روزا الکسمبرگ اور ھلفرڈنگ جیسے نظریاتی رہنما رہنمائی کررہے تھے. اس بحث میں لینن کی انٹری شاید دیر سے ہوئی لیکن 1914 سے 1917 تک لینن نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف عالمی مارکسزم کا سیاسی رہنما ہے جس نے دوسری انٹرنیشنل کے انہدام کے بعد انقلابی قوتوں کو منظم کیا بلکہ روس سے لے کر پوری دنیا کی عالمی انقلابی اور آزادی پسند تحریک کےلئے وہ ایک رہنما نظریاتی استاد بھی ہے. 1914 کے بعد لینن پہلا آدمی تھا جنہوں نے قومی سوال پر یورپی مارکسزم کی نظریاتی روایت سے انحراف کرتے ہوئے سامراج اور قومی آزادی کی تحریکوں کی ٹھوس نظریاتی اور سٹرٹیجک وضاحت متعین کی.

تیسری دنیا کی ابھار اور 1950 تک قومی سوال پرسب سے ریڈیکل اور انقلابی موقف لینن کا تھا. تب تک کسی نے بھی قومی آزادی پر اس انداز سے نہیں لکھا تھا. 1950 کے بعد الجیریا سے تعلق رکھنے والا فرانز فینن وہ شخص تھا جنہوں نے قومی آزادی اور کالونیل سوال کی سب سے انقلابی وضاحت کی.

لینن کی قومی آزادی کے متعلق تصورات میں کچھ سنجیدہ خامیاں بھی تھیں جیسا کہ انہوں نے تسلسل کے ساتھ ثقافتی خودمختاری کی مخالفت کی جس نے مظلوم قومیتوں کے لئے صرف علیحده ریاست یا مرکزیت پر مبنی وحدانی ریاست کے آپشن کی بات کی.

دوسرا اس نے اس تصور کا اطلاق مکمل طو پرسوویت یونین میں رہنے والے یوکرین ،مرکزی ایشیا پر نہیں کیا.
تیسرا اور سب سے اہم مرکزیت پر مبنی پارٹی کا تصورتھا جس نے روسی انقلاب کے بعد ایک پارٹی کی امریت کا راستہ ہموار کیا جو حق خودارادیت کے تمام تصور سے متصادم ہے مثال کے طور پر 1918 کے بعد یوکرین کی کیمونسٹ پارٹی کو روسی پارٹی کے تابع کیا گیا. اس کے بعد مرکزی ایشیا اور دوسرے علاقوں میں بھی یہ کیا گیا.
عالمی سطح پر کامنٹرن نے بھی اس طرح کی مرکزیت پر مبنی تنظیمی پالیسیاں اپنائی.