کلاسیکل مارکسزم ، قومی سوال اور پنجابی لیفٹ

تحریر: رزاق غورزنگ

23 جون 2026

تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو مرکزی پاکستان خاص طور پر پنجاب کے اکثریتی سوشلسٹ پارٹیوں کے نظریاتی تجزیوں اور لٹریچر میں پاکستان جیسی ریاست میں مظلوم قومیتوں کی قوم پرست سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے عمومی طور پر یہ نظریاتی نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ قوم پرستی ایک بورژوا نظریہ ہے ۔میرے خیال میں یہ مکینیکل مارکسزم کی بد ترین شکل ہے ۔قوم پرستی بذات خود کوئی طبقاتی نظریہ نہیں ہے ۔ مختلف معروضی حالات میں مختلف طبقات اور اس کے اتحادی گروہ قوم پرستی کے نظریے کو اختیار کرسکتے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں اگر کہا جائے تو قوم پرستی کوئی واحد نظریہ نہیں ہے جس کا کوئی واضح اور متعین جوہر ہو ۔
 "It always exists in articulation, in combination"

کلاسیکل مارکسزم ، قومی سوال اور پنجابی لیفٹ image

کسی بھی مخصوص موڑ پر قوم پرستی کا نظریہ جو سیاست ختیار کرتی ہے اس کا انحصار ہمیشہ اس مخصوص طاقت کے بلاک یعنی پاور بلاک پر ہوتا ہے جو اسے اپنا کر اپنا تسلط قائم کرنے کےلئے استعمال کرتا ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو یکسر متضاد اور مخالف تحریکوں نے قوم پرستی کو اپنے سیاسی غلبے کےلئے استعمال کیا ہے جیسا کہ فاشزم نے اپنے غلبے کے لئےقوم پرستی کے نظریے کو استعمال کیا اسی طرح بیسویں صدی میں زیادہ تر کیمونسٹ تحریکوں نے قوم پرستی کو آپنے غلبے کے لئے استعمال کیا۔ حالیہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تصادم میں اسلامسٹ طالبان نے پاکستان کے خلاف افغان قوم پرستی کا سہارا لیا ۔
مختصر یہ کہ قوم پرستی کو ترقی پسند اور رجعتی کی سخت باینری میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا. جہاں پر قوم پرستی کی رجعتی اور تنگ نظر شکلیں ہیں وہاں پر قوم پرستی کی ترقی پسند اور انقلابی شکلیں بھی ہیں ۔
قوم پرستی ، قوم سازی و قومی ریاست کی نظریاتی وضاحت میں کلاسیکل مارکسزم کے دو بڑے بانی کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کی پیشن گوئیاں تاریخ نے غلط ثابت کی ۔کیمونسٹ مینی فیسٹو میں قومی تفریقوں کے جلد ختم ہونے کے بعد گلوبلائزیشن کی جو پیشن گوئی کی گئی تھی وہ غلط ثابت ہوگئی ۔1848 کے بعد یورپ میں جو قوم پرست انقلابات ہوئے انہوں نے مارکس اور اینگلز کی پیشن گوئی کے برعکس بہت سی قومی ریاستوں کو جنم دیا ۔پچھلے 150 سال کی تاریخ نے بھی مارکس اور اینگلز کی پیشن گوئی کو غلط ثابت کیا ہے ۔قوم اور قوم پرستی پر مارکسی فکر کی بنیاد اس غلط مفروضے پر قائم تھی کہ قوم ایک عارضی اور گزرتا ہوا مظہر ہے۔اسی طرح قوم ،قوم سازی اور قومی ریاست پر مارکس اور اینگلز کے خیالات اورینٹلسٹ اور یورو سنٹرک تھے ۔انہوں نے برطانیہ اور فرانس کے تجربے کو ترقی پسند اور عالمگیر پیمانہ بنایا جب کہ مشرقی یورپ کو اس تجربے کا پسماندہ شکل کہا ۔زراعتی معاشروں میں جنم لینے والے قوموں کو غیرتاریخی کہا گیا یا دوسرے لفظوں میں بغیر تاریخ کے لوگ "People’s without a history”.
قوم اور قوم پرستی پر مارکس اور اینگلز کے ان دو غلط مفروضوں کو نصف صدی تک کوئی درست نہیں کرسکا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نصف صدی کے بعد کاوتسکی ،لینن ،روزا الکمسبرگ اور اوٹو باور نے قوم اور قومی سوال پر مارکس اور اینگلز کے غلط مفروضوں کو درست کرنے کے لئے جو کام کیا وہ زیادہ تر ان چیلنجز پر مشتمل تھا جو ان کو اپنے اپنے ملکوں میں انہیں درپیش تھے ۔کاوتسکی کے لئے جرمنی کی قومی وحدت اور قومی ریاست ایک عصری تجربہ تھا یا زار روس کی سلطنت اور ملٹی نیشنل ھمسبرگ میں جہاں پر قومی مسئلہ ایک دھماکہ خیز شکل اختیار کرگیا تھا ۔روزا الگسمبرگ نے بھی زیادہ تر زار روس کے اندر پولش سوال کے اوپر تجربے کی ۔نظریاتی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
اوٹو باور نے قوم اور قوم پرستی کے اوپر عالمگیر نظریاتی وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا نظریاتی تناظر بھی ہنگری سلطنت میں سلاوی قوم پرستی کے مشاہدات اور تجربات تک محدود تھا لیکن اوٹو باور شاید پہلا انقلابی مفکر تھا جنہوں نے ملٹی نیشنل ریاست میں مظلوم اقوام کی خود مختاری اور اکثریتی قوم کی شاونزم کے خلاف اقلیتی اقوام کے دفاع کی نظریاتی طور پر توضیح کی ۔
مارکسی روایات میں پہلی جنگ عظیم کے بعد لینن شاید پہلا آدمی تھا جنہوں نے یہ تسلیم کیا کہ زراعت پر مشتمل معاشروں کے استعمار زدہ لوگوں میں قومی آزادی اور سوشلزم کے درمیان گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔ان کے مطابق ان معاشروں میں قومی آزادی اور قوم پرست تحریک کی قیادت جن سماجی گروہوں کے پاس ہوگی وہی گروہ اس تحریک کی سماجی اور معاشی جوہر کا تعین کریں گے اور یہی گروہ وہ سیاسی و سماجی ڈھانچہ تعمیر کریں گے جو ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔لینن کی موت کے بعد بیسویں صدی کے تیسری دہائی کے آغاز سے لے کر چھٹی دہائی تک اس فکری میراث کو مزید نکھارنے اور اس کو جدید چیلنجز کے پس منظر میں نظریاتی اور عملی طور پر تعمیر کرنے میں گرامشی اور فرانز فینن نے بہت بڑا حصہ ڈالا ہے ۔
گرامشی اور فینن کے نظریات پر تفصیلی پوسٹ پھر کھبی.