عوام کی اصطلاح اور اس کی حدود
08جولائی

عوام کی اصطلاح اور اس کی حدود

سائرہ رباب ایک سنجیدہ لکھاری ہیں ۔سوشل میڈیا پر ان کی تحریریں میں شوق سے پڑھتا ہوں ۔پچھلے دنوں انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ماهرنگ بلوچ اور خاص طور پر بلوچ تحریک کی طرف سے پنجاب کو نفرت کے بیانیے میں ایک قوم کے طور پر پیش کرنا کس کے مفاد میں جاتا ہے ؟ انہوں نے لکھا ہے کہ پنجاب ایک یکساں اکائی نہیں ہے ۔اگر بلوچ تحریک کی جانب سے پنجاب کو نفرت کا نشانہ بنایا جایا ہے تو یہ قومی تحریک آہستہ آہستہ اشرافیائی قوم پرستی میں چلی جاتی ہیں ۔ اخر میں انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ہمیں زبان،نسل اور رنگ سے بالاتر ہوکر عوامی بنیادوں پر طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔

کلاسیکل مارکسزم ، قومی سوال اور پنجابی لیفٹ
23جون

کلاسیکل مارکسزم ، قومی سوال اور پنجابی لیفٹ

تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو مرکزی پاکستان خاص طور پر پنجاب کے اکثریتی سوشلسٹ پارٹیوں کے نظریاتی تجزیوں اور لٹریچر میں پاکستان جیسی ریاست میں مظلوم قومیتوں کی قوم پرست سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے عمومی طور پر یہ نظریاتی نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ قوم پرستی ایک بورژوا نظریہ ہے ۔

کالونیل سوال پر لینن کا موقف
18جون

کالونیل سوال پر لینن کا موقف

قوم سازی خاص طور پر کالونیل سوال پر کلاسیکل مارکسزم (مارکس و انگلز) کے زیادہ تر نظریاتی و سیاسی نتائج یورو سنٹرزم پر مبنی تھے۔ آج ہم کوشش کریں گے کہ قومی سوال اور کالونیل سوال پر لنین کی نظریاتی اور سیاسی موقف کا جائزہ لیں۔