عوام کی اصطلاح اور اس کی حدود

عوام کی اصطلاح اور اس کی حدود

سائرہ رباب ایک سنجیدہ لکھاری ہیں ۔سوشل میڈیا پر ان کی تحریریں میں شوق سے پڑھتا ہوں ۔پچھلے دنوں انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ماهرنگ بلوچ اور خاص طور پر بلوچ تحریک کی طرف سے پنجاب کو نفرت کے بیانیے میں ایک قوم کے طور پر پیش کرنا کس کے مفاد میں جاتا ہے ؟ انہوں نے لکھا ہے کہ پنجاب ایک یکساں اکائی نہیں ہے ۔اگر بلوچ تحریک کی جانب سے پنجاب کو نفرت کا نشانہ بنایا جایا ہے تو یہ قومی تحریک آہستہ آہستہ اشرافیائی قوم پرستی میں چلی جاتی ہیں ۔ اخر میں انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ہمیں زبان،نسل اور رنگ سے بالاتر ہوکر عوامی بنیادوں پر طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔

کلاسیکل مارکسزم ، قومی سوال اور پنجابی لیفٹ

کلاسیکل مارکسزم ، قومی سوال اور پنجابی لیفٹ image

تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو مرکزی پاکستان خاص طور پر پنجاب کے اکثریتی سوشلسٹ پارٹیوں کے نظریاتی تجزیوں اور لٹریچر میں پاکستان جیسی ریاست میں مظلوم قومیتوں کی قوم پرست سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے عمومی طور پر یہ نظریاتی نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ قوم پرستی ایک بورژوا نظریہ ہے ۔

کالونیل سوال پر لینن کا موقف

Lenin and the National Question

قوم سازی خاص طور پر کالونیل سوال پر کلاسیکل مارکسزم (مارکس و انگلز) کے زیادہ تر نظریاتی و سیاسی نتائج یورو سنٹرزم پر مبنی تھے۔ آج ہم کوشش کریں گے کہ قومی سوال اور کالونیل سوال پر لنین کی نظریاتی اور سیاسی موقف کا جائزہ لیں۔